Sturge–Weber Syndrome in Urdu Language - اسٹرج–ویبر سنڈروم

Sturge–Weber Syndrome in Urdu Language explained clearly with causes, symptoms, diagnosis, treatment, and prognosis. Easy-to-understand guide for patients and caregivers.

Dr. Shakeel Zulfiqar

1 min read

اسٹرج–ویبر سنڈروم (Sturge–Weber Syndrome یا SWS) ایک نایاب پیدائشی بیماری ہے جو بنیادی طور پر جلد، دماغ اور آنکھوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ بیماری عموماً پیدائش کے وقت یا بچپن کے ابتدائی سالوں میں ظاہر ہو جاتی ہے۔

اکثر مریضوں میں چہرے پر پورٹ وائن اسٹین (Port-Wine Stain) نامی سرخ یا جامنی نشان پایا جاتا ہے، جبکہ دماغ میں خون کی غیر معمولی نالیوں کی وجہ سے دورہ پڑنے اور دیگر اعصابی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

یہ مضمون مریضوں، والدین اور عام قارئین کے لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ اس بیماری کو آسان الفاظ میں سمجھ سکیں۔

اسٹرج–ویبر سنڈروم کیا ہے؟

اسٹرج–ویبر سنڈروم ایک نیوروکیوٹینئیس سنڈروم ہے، یعنی ایسی بیماری جو اعصابی نظام (دماغ) اور جلد دونوں کو متاثر کرتی ہے۔

یہ بیماری:

موروثی (Inherited) نہیں ہوتی

پیدائش کے وقت موجود ہوتی ہے

وقت کے ساتھ علامات واضح ہوتی جاتی ہیں

اہم بات یہ ہے کہ ہر مریض میں اس کی شدت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کچھ افراد میں علامات ہلکی ہوتی ہیں جبکہ کچھ میں زیادہ شدید۔

کیا اسٹرج–ویبر سنڈروم نایاب ہے؟

جی ہاں، یہ ایک نایاب بیماری ہے۔

اندازاً ہر 20,000 تا 50,000 بچوں میں سے ایک بچہ اس سے متاثر ہوتا ہے۔

اسٹرج–ویبر سنڈروم کی وجہ (Causes)

اس بیماری کی بنیادی وجہ ایک جینیاتی تبدیلی (mutation) ہے جو GNAQ gene میں ہوتی ہے۔

اہم نکات:

یہ تبدیلی اتفاقی (sporadic) ہوتی ہے

والدین سے منتقل نہیں ہوتی

حمل کے ابتدائی مرحلے میں پیدا ہوتی ہے

یہ جینیاتی تبدیلی خون کی نالیوں کی نشوونما کو متاثر کرتی ہے، جس کے نتیجے میں:

چہرے پر پورٹ وائن اسٹین

دماغ کی سطح پر غیر معمولی خون کی نالیاں

آنکھوں میں دباؤ (glaucoma)

پیدا ہو سکتے ہیں۔

اسٹرج–ویبر سنڈروم کی نمایاں علامات (Symptoms)

1. جلد کی علامات

چہرے پر پورٹ وائن اسٹین عام طور پر ایک طرف ہوتا ہے ،زیادہ تر آنکھ اور ماتھے کے علاقے میں۔

2. دماغی اور اعصابی علامات

دورے پڑنا (اکثر بچپن میں شروع ہوتے ہیں)

جسم کے ایک حصے میں کمزوری

سیکھنے میں دشواری

نشونما میں تاخیر

3. آنکھوں کے مسائل

گلوکوما (آنکھ کا دباؤ بڑھ جانا)

بینائی کم ہونا

4. رویے اور نفسیاتی مسائل

توجہ کی کمی

سیکھنے کے مسائل

بعض بچوں میں رویے کی دشواریاں

اسٹرج–ویبر سنڈروم کی مشہور Triad

اس بیماری کی تین اہم علامات یہ ہیں:

چہرے پر پورٹ وائن اسٹین

دماغ کی سطح پر خون کی غیر معمولی نالیاں

آنکھوں کا دباؤ (Glaucoma)

ہر مریض میں یہ تینوں علامات لازمی نہیں ہوتیں۔

اسٹرج–ویبر سنڈروم کی اقسام (Types)

قسم 1 (Type 1)

چہرے پر پورٹ وائن اسٹین

دماغ متاثر

آنکھیں متاثر ہو سکتی ہیں

یہ سب سے عام قسم ہے۔

قسم 2 (Type 2)

صرف چہرے پر پورٹ وائن اسٹین

دماغ متاثر نہیں ہوتا

قسم 3 (Type 3)

صرف دماغ متاثر

چہرے پر کوئی نشان نہیں ہوتا

یہ قسم تشخیص میں مشکل ہو سکتی ہے۔

بچوں میں اسٹرج–ویبر سنڈروم (Sturge–Weber Syndrome in Babies)

ابتدائی علامات:

پیدائش کے وقت چہرے پر نشان

چند مہینوں میں دورے پڑنا

سر کا ایک طرف کمزور ہونا

کچھ بچوں میں علامات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں، اسی لیے مسلسل طبی نگرانی ضروری ہوتی ہے۔

تشخیص (Diagnosis)

اسٹرج–ویبر سنڈروم کی تشخیص درج ذیل طریقوں سے کی جاتی ہے:

1. طبی معائنہ

جلد کے نشان کا جائزہ

اعصابی معائنہ

2. MRI دماغ

دماغ کی سطح پر غیر معمولی خون کی نالیوں کی شناخت

یہ سب سے مؤثر ٹیسٹ ہے

Leptomeningeal angioma

دماغ کے ایک حصے میں سکڑاؤ (atrophy) نظر آ سکتا ہے۔

3. CT Scan

(خاص طور پر بڑے بچوں میں Tram-track calcification دکھا سکتا ہے )

یہ علامت بیماری کے بعد کے مراحل میں زیادہ واضح ہوتی ہے۔

4. آنکھوں کا معائنہ

گلوکوما کی جانچ

علاج (Treatment)

کیا اس بیماری کا مکمل علاج موجود ہے؟

نہیں، اس وقت اسٹرج–ویبر سنڈروم کا مکمل علاج (cure) موجود نہیں، لیکن علامات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

1. دورہ پڑنے کا علاج ادویات سے کیا جا سکتا ہے۔

کچھ مریضوں میں سرجری پر غور کیا جا سکتا ہے

2. جلد کے نشان کا علاج

Laser therapy

یہ نشان کو ہلکا کر سکتی ہے، مکمل ختم نہیں کرتی

3. آنکھوں کا علاج

گلوکوما کے لیے ادویات یا سرجری

4. معاون علاج

فزیوتھراپی

اسپیچ تھراپی

تعلیمی سپورٹ

اسٹرج–ویبر سنڈروم کی Prognosis (مستقبل)

مستقبل کا دارومدار ان باتوں پر ہوتا ہے:

دوروں کی شدت

دماغ کے متاثرہ حصے کا سائز

بروقت تشخیص اور علاج

کچھ مریض معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں

جبکہ کچھ کو طویل مدتی طبی مدد کی ضرورت ہوتی ہے

زندگی کی متوقع مدت (Life Expectancy)

زیادہ تر مریضوں میں زندگی کی متوقع مدت نارمل ہوتی ہے بشرطیکہ دورے کنٹرول میں ہوں

گلوکوما کا بروقت علاج ہو

تحقیق اور مستقبل

اس وقت تحقیق جاری ہے:

نئی ادویات ، جینیاتی سطح پر علاج ، بہتر تشخیصی طریقوں پر کام ہو رہا ہے۔لیکن ابھی کوئی حتمی علاج دستیاب نہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

کیا اسٹرج–ویبر سنڈروم موروثی ہے؟

نہیں۔

کیا ہر پورٹ وائن اسٹین والا بچہ SWS کا مریض ہوتا ہے؟

نہیں۔

کیا یہ بیماری جان لیوا ہے؟

عموماً نہیں، اگر مناسب علاج ہو۔

کیا بالغ افراد میں یہ بیماری شروع ہو سکتی ہے؟

نہیں، یہ پیدائشی بیماری ہے۔